تصاویر گیلری و اساتذہ کرام کے پروفائلز - جامعہ اسلامیہ بنہ آلائی
🧔 اساتذہ کرام جامعہ اسلامیہ
مولانا غلام سرور مرحوم رحمہ اللّٰہ
بانی جامعہسوانح حیات: جامع المعقول و المنقول حضرت مولانا غلام سرور صاحب (رحمہ اللہ)
بانی : جامعہ اسلامیہ آلائی
پس منظر اور ابتدائی تعلیم
حضرت مولانا غلام سرور صاحب (رحمہ اللہ) بن اکبر خان (رحمہ اللہ) کا تعلق وادیِ آلائی کے غیرت مند اور متمول "سواتی پٹھان" خاندان سے تھا۔ آپ کی ولادت تقریباً 1917ء میں آلائی کے ایک دور افتادہ مگر تاریخی گاؤں "بنہ" میں ہوئی۔ آپ نے ناظرہ قرآن کریم کی ابتدائی اور بنیادی تعلیم اپنے والدِ محترم سے حاصل کی۔
حصولِ علم کے لیے ہجرت اور اکابرینِ دیوبند سے کسبِ فیض
علمِ دین کی سچی تڑپ آپ کو بچپن ہی میں گھر بار چھڑا کر ایبٹ آباد لے آئی، جہاں آپ نے ممتاز عالمِ دین مولانا محمد عالم نوگرامی (ثم کشمیری) کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔ تقریباً بارہ سال تک اپنے مربی کے زیرِ سایہ ایبٹ آباد، احمد آباد اور مقبوضہ کشمیر میں علومِ نبوت کی منازل طے کرنے کے بعد، آپ اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے برصغیر کی عظیم دینی درسگاہ "دارالعلوم دیوبند" تشریف لے گئے۔
وہاں آپ نے اپنے دور کی عبقری شخصیات، بالخصوص:
* شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی (رحمہ اللہ)
* شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی (رحمہ اللہ)
* مولانا فخر الحسن (رحمہ اللہ)
* مولانا عبدالحق (رحمہ اللہ)
* مولانا عبدالسمیع (رحمہ اللہ)
* مولانا محمد ابراہیم (رحمہ اللہ)
اور دیگر جلیل القدر ائمہ دین سے براہِ راست کسبِ فیض کیا۔ بالآخر 1948ء میں آپ دارالعلوم دیوبند سے "فاضلِ دیوبند" کی مایہ ناز دستار اور سندِ فراغت سے سرفراز ہوئے۔
تدریسی خدمات اور عظیم درسگاہ کی بنیاد
فراغت کے بعد آپ نے مسلسل تین سال (1951ء تک) دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء میں گراں قدر علمی و فقہی خدمات سرانجام دیں۔ بعد ازاں، اپنے شفیق استاد اور مربیِ خاص شیخ الادب مولانا اعزاز علی صاحب کی خواہش پر آپ "مدرسہ انوار العلوم, احمد آباد" کے صدر مدرس مقرر ہوئے۔
1952ء میں آپ پردیس سے دیس لوٹے اور اپنے آبائی گاؤں کی مسجد میں قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی صدائیں بلند کرتے ہوئے درس و تدریس کا باقاعدہ آغاز کیا۔ دور دراز سے علومِ نبوت کی پیاسے اس شمعِ توحید کے گرد پروانہ وار جمع ہونے لگے۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ کا قابلِ رشک پہلو یہ تھا کہ آپ نے یہ تمام تدریسی خدمات بغیر کسی دنیاوی معاوضے اور تنخواہ کے سرانجام دیں۔ طلبہ کے طعام کا انتظام اگرچہ اہلِ علاقہ کے تعاون سے ہوتا، مگر جو کمی رہ جاتی، اسے آپ اپنے ذاتی مال سے پورا فرماتے۔
آپ کا سب سے بڑا صدقہ جاریہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے چاروں فرزندان کو زیورِ علم سے آراستہ کر کے عالمِ دین بنایا اور اپنی زرخرید زمین کو ایک دینی مدرسے کے لیے وقف فرما کر "جامعہ اسلامیہ آلائی" کی بنیاد رکھی۔ آج اس عظیم ادارے کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری آپ کے لائق فرزندان سنبھالے ہوئے ہیں، جہاں فی الوقت دورۂ حدیث (عالمیہ) تک کی تمام کتبِ حدیث و فقہ پڑھائی جا رہی ہیں اور 15 کے قریب جید اساتذہ کرام تدریسی خدمات پر مامور ہیں۔
سیاسی و سماجی خدمات اور آلائی کا تاریخی انقلاب
مولانا غلام سرور رحمہ اللہ چونکہ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے تربیت یافتہ تھے، اس لیے سیاسی شعور اور جذبۂ حریت آپ کے خمیر میں شامل تھا۔ آپ نے غریب، مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کی داد رسی کے لیے "جمعیت علمائے اسلام" کے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ چونکہ آلائی ایک پسماندہ قبائلی علاقہ تھا، اس لیے آپ کی دلی خواہش تھی کہ یہ علاقہ ملکی دھارے میں شامل ہو کر ترقی کرے۔
1970ء کے پہلے تاریخی عام انتخابات میں جب جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے مولانا عبدالحکیم صاحب (رحمہ اللہ) کو امیدوار نامزد کیا گیا، تو مقامی علماء نے جانوں کی پرواہ کیے بغیر ایسی پرخطر اور ولولہ انگیز انتظام مہم چلائی جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا؛ اور جے یو آئی کے غریب و مخلص امیدوار نے وقت کے بااثر نواب، محمد ایوب خان کو شکستِ فاش دی۔
انتخابات کے بعد جب غریب عوام نوابین کے انتقام کا نشانہ بنے، تو جمعیت علمائے اسلام آلائی کا ایک اعلیٰ سطحی وفد—جس کے روحِ رواں مولانا غلام سرور صاحب، حاجی محمد ایوب شہید (آف نوگرام)، اور حاجی شمس الرحمن صاحب (آف راشنگ) تھے—مولانا عبدالحکیم صاحب کی قیادت میں قائدینِ جمعیت حضرت مولانا مفتی محمود صاحب (رحمہ اللہ) اور مولانا غلام غوث ہزاروی صاحب (رحمہ اللہ) سے ملا۔ بعد ازاں، ان اکابرین کی وساطت سے یہ وفد وقت کے صدرِ مملکت جنرل یحییٰ خان سے ملا اور آلائی کے مظلوم عوام پر ہونے والے مظالم کی سچی داستان سامنے رکھی۔
اس ملاقات کا یہ تاریخی اثر ہوا کہ اگلے روز ملکی اخبارات میں یہ خبریں شہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہوئیں، اور صدرِ مملکت نے فوری طور پر آلائی کی قبائلی حیثیت ختم کر کے اسے بندوبستی (سیٹلڈ) اضلاع میں شامل کرنے کا صدارتی حکم نامہ جاری کیا۔ چنانچہ راتوں رات پاک فوج علاقے میں داخل ہوئی اور **12 فروری 1971ء بروز جمعۃ المبارک** کو وادیِ آلائی میں پہلی بار پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا گیا، جس سے علاقے میں جبر و استبداد کے تاریک دور کا خاتمہ ہوا اور ترقی کا نیا سورج طلوع ہوا۔
وفاتِ حسرت آیات
ساری زندگی علم و عمل، زہد و تقویٰ اور مظلوموں کی حمایت میں گزارنے کے بعد، بالآخر سال 1996ء کا آخری سورج ڈھلتے ہی، یعنی **31 دسمبر 1996ء بوقتِ عصر**، یہ آفتابِ علم و عمل ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا اور آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
(اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ)۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔
سوانح حیات: جامع المعقول و المنقول حضرت مولانا غلام سرور صاحب (رحمہ اللہ)
بانی : جامعہ اسلامیہ آلائی
پس منظر اور ابتدائی تعلیم
حضرت مولانا غلام سرور صاحب (رحمہ اللہ) بن اکبر خان (رحمہ اللہ) کا تعلق وادیِ آلائی کے غیرت مند اور متمول "سواتی پٹھان" خاندان سے تھا۔ آپ کی ولادت تقریباً 1917ء میں آلائی کے ایک دور افتادہ مگر تاریخی گاؤں "بنہ" میں ہوئی۔ آپ نے ناظرہ قرآن کریم کی ابتدائی اور بنیادی تعلیم اپنے والدِ محترم سے حاصل کی۔
حصولِ علم کے لیے ہجرت اور اکابرینِ دیوبند سے کسبِ فیض
علمِ دین کی سچی تڑپ آپ کو بچپن ہی میں گھر بار چھڑا کر ایبٹ آباد لے آئی، جہاں آپ نے ممتاز عالمِ دین مولانا محمد عالم نوگرامی (ثم کشمیری) کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔ تقریباً بارہ سال تک اپنے مربی کے زیرِ سایہ ایبٹ آباد، احمد آباد اور مقبوضہ کشمیر میں علومِ نبوت کی منازل طے کرنے کے بعد، آپ اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے برصغیر کی عظیم دینی درسگاہ "دارالعلوم دیوبند" تشریف لے گئے۔
وہاں آپ نے اپنے دور کی عبقری شخصیات، بالخصوص:
* شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی (رحمہ اللہ)
* شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی (رحمہ اللہ)
* مولانا فخر الحسن (رحمہ اللہ)
* مولانا عبدالحق (رحمہ اللہ)
* مولانا عبدالسمیع (رحمہ اللہ)
* مولانا محمد ابراہیم (رحمہ اللہ)
اور دیگر جلیل القدر ائمہ دین سے براہِ راست کسبِ فیض کیا۔ بالآخر 1948ء میں آپ دارالعلوم دیوبند سے "فاضلِ دیوبند" کی مایہ ناز دستار اور سندِ فراغت سے سرفراز ہوئے۔
تدریسی خدمات اور عظیم درسگاہ کی بنیاد
فراغت کے بعد آپ نے مسلسل تین سال (1951ء تک) دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء میں گراں قدر علمی و فقہی خدمات سرانجام دیں۔ بعد ازاں، اپنے شفیق استاد اور مربیِ خاص شیخ الادب مولانا اعزاز علی صاحب کی خواہش پر آپ "مدرسہ انوار العلوم, احمد آباد" کے صدر مدرس مقرر ہوئے۔
1952ء میں آپ پردیس سے دیس لوٹے اور اپنے آبائی گاؤں کی مسجد میں قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی صدائیں بلند کرتے ہوئے درس و تدریس کا باقاعدہ آغاز کیا۔ دور دراز سے علومِ نبوت کی پیاسے اس شمعِ توحید کے گرد پروانہ وار جمع ہونے لگے۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ کا قابلِ رشک پہلو یہ تھا کہ آپ نے یہ تمام تدریسی خدمات بغیر کسی دنیاوی معاوضے اور تنخواہ کے سرانجام دیں۔ طلبہ کے طعام کا انتظام اگرچہ اہلِ علاقہ کے تعاون سے ہوتا، مگر جو کمی رہ جاتی، اسے آپ اپنے ذاتی مال سے پورا فرماتے۔
آپ کا سب سے بڑا صدقہ جاریہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے چاروں فرزندان کو زیورِ علم سے آراستہ کر کے عالمِ دین بنایا اور اپنی زرخرید زمین کو ایک دینی مدرسے کے لیے وقف فرما کر "جامعہ اسلامیہ آلائی" کی بنیاد رکھی۔ آج اس عظیم ادارے کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری آپ کے لائق فرزندان سنبھالے ہوئے ہیں، جہاں فی الوقت دورۂ حدیث (عالمیہ) تک کی تمام کتبِ حدیث و فقہ پڑھائی جا رہی ہیں اور 15 کے قریب جید اساتذہ کرام تدریسی خدمات پر مامور ہیں۔
سیاسی و سماجی خدمات اور آلائی کا تاریخی انقلاب
مولانا غلام سرور رحمہ اللہ چونکہ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے تربیت یافتہ تھے، اس لیے سیاسی شعور اور جذبۂ حریت آپ کے خمیر میں شامل تھا۔ آپ نے غریب، مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کی داد رسی کے لیے "جمعیت علمائے اسلام" کے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ چونکہ آلائی ایک پسماندہ قبائلی علاقہ تھا، اس لیے آپ کی دلی خواہش تھی کہ یہ علاقہ ملکی دھارے میں شامل ہو کر ترقی کرے۔
1970ء کے پہلے تاریخی عام انتخابات میں جب جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے مولانا عبدالحکیم صاحب (رحمہ اللہ) کو امیدوار نامزد کیا گیا، تو مقامی علماء نے جانوں کی پرواہ کیے بغیر ایسی پرخطر اور ولولہ انگیز انتظام مہم چلائی جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا؛ اور جے یو آئی کے غریب و مخلص امیدوار نے وقت کے بااثر نواب، محمد ایوب خان کو شکستِ فاش دی۔
انتخابات کے بعد جب غریب عوام نوابین کے انتقام کا نشانہ بنے، تو جمعیت علمائے اسلام آلائی کا ایک اعلیٰ سطحی وفد—جس کے روحِ رواں مولانا غلام سرور صاحب، حاجی محمد ایوب شہید (آف نوگرام)، اور حاجی شمس الرحمن صاحب (آف راشنگ) تھے—مولانا عبدالحکیم صاحب کی قیادت میں قائدینِ جمعیت حضرت مولانا مفتی محمود صاحب (رحمہ اللہ) اور مولانا غلام غوث ہزاروی صاحب (رحمہ اللہ) سے ملا۔ بعد ازاں، ان اکابرین کی وساطت سے یہ وفد وقت کے صدرِ مملکت جنرل یحییٰ خان سے ملا اور آلائی کے مظلوم عوام پر ہونے والے مظالم کی سچی داستان سامنے رکھی۔
اس ملاقات کا یہ تاریخی اثر ہوا کہ اگلے روز ملکی اخبارات میں یہ خبریں شہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہوئیں، اور صدرِ مملکت نے فوری طور پر آلائی کی قبائلی حیثیت ختم کر کے اسے بندوبستی (سیٹلڈ) اضلاع میں شامل کرنے کا صدارتی حکم نامہ جاری کیا۔ چنانچہ راتوں رات پاک فوج علاقے میں داخل ہوئی اور **12 فروری 1971ء بروز جمعۃ المبارک** کو وادیِ آلائی میں پہلی بار پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا گیا، جس سے علاقے میں جبر و استبداد کے تاریک دور کا خاتمہ ہوا اور ترقی کا نیا سورج طلوع ہوا۔
وفاتِ حسرت آیات
ساری زندگی علم و عمل، زہد و تقویٰ اور مظلوموں کی حمایت میں گزارنے کے بعد، بالآخر سال 1996ء کا آخری سورج ڈھلتے ہی، یعنی **31 دسمبر 1996ء بوقتِ عصر**، یہ آفتابِ علم و عمل ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا اور آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
(اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ)۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔
مولانا آفتاب شاہ صاحب
استاد الحدیث...
مولانا سمیع اللہ صاحب
مہتممحضرت مولانا سمیع اللہ صاحب (حفظہ اللہ) ملک کے ممتاز تعلیمی و تربیتی ادارے "جامعہ اسلامیہ آلائی" کے موجودہ مہتمم اور مایہ ناز عالمِ دین ہیں۔ آپ نے اپنی ابتدائی دینی تعلیم کے مراحل کامیابی سے طے کرنے کے بعد، اعلیٰ اسلامی علوم کی تحصیل کے لیے عالمِ اسلام کے عظیم اور شہرہ آفاق دینی مرکز "جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی" کا رُخ کیا، جہاں سے آپ نے سندِ فراغت حاصل کی۔ بنوری ٹاؤن جیسے معتبر ادارے سے کسبِ فیض نے آپ کی علمی و فکری صلاحیتوں کو جلا بخشی۔
فراغتِ تعلیم کے فوراً بعد، آپ نے اپنی پوری زندگی کو دینِ حنیف کی سربلندی، قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی صداؤں کو عام کرنے، تزکیہ و احسان، اصلاحِ معاشرہ اور طلبہ کی علمی و اخلاقی تعمیرِ نو کے لیے وقف کر دیا۔
آپ کی دور اندیش قیادت اور شب و روز کی محنت کے نتیجے میں "جامعہ اسلامیہ آلائی" روز افزوں ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور ایک مثالی تعلیمی و تربیتی مرکز بن کر ابھرا ہے۔ اس ادارے میں درج ذیل امور کو بنیادی ترجیحات میں شامل رکھا گیا ہے:
* قرآن و سنت کی خالص تعلیمات کی ترویج و اشاعت۔
* مسنون عقائد و اعمال اور منہجِ سلف کی پاسداری۔
* طلبہ میں اعلیٰ اخلاقی اقدار، للہیت اور خدمتِ خلق کا جذبہ بیدار کرنا۔
حضرت مولانا کی علمی بصیرت، حسنِ انتظام، بے لوث اخلاص، سادگی اور طلبہ پر شفیقانہ سرپرستی نے جامعہ کو ایک مستحکم اور مثالی ادارہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ آپ کا ہمیشہ سے یہ نظریہ اور فکر رہی ہے کہ مدارس کے طلبہ صرف خشک علمی ابحاث تک محدود نہ رہیں، بلکہ علم کے ساتھ عمل، تقویٰ، اخلاص اور عصری چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے معاشرے کے لیے ایک نافع انسان بن کر نکلیں۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت مولانا سمیع اللہ صاحب کی تمام تر علمی، دینی، دعوتی اور تربیتی خدمات کو اپنی بارگاہِ عالیہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی عمر، صحت اور علم و عمل میں برکتیں نازل فرمائے اور انہیں تا دیر اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کی توفیقِ مستمرہ سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین۔
حضرت مولانا سمیع اللہ صاحب (حفظہ اللہ) ملک کے ممتاز تعلیمی و تربیتی ادارے "جامعہ اسلامیہ آلائی" کے موجودہ مہتمم اور مایہ ناز عالمِ دین ہیں۔ آپ نے اپنی ابتدائی دینی تعلیم کے مراحل کامیابی سے طے کرنے کے بعد، اعلیٰ اسلامی علوم کی تحصیل کے لیے عالمِ اسلام کے عظیم اور شہرہ آفاق دینی مرکز "جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی" کا رُخ کیا، جہاں سے آپ نے سندِ فراغت حاصل کی۔ بنوری ٹاؤن جیسے معتبر ادارے سے کسبِ فیض نے آپ کی علمی و فکری صلاحیتوں کو جلا بخشی۔
فراغتِ تعلیم کے فوراً بعد، آپ نے اپنی پوری زندگی کو دینِ حنیف کی سربلندی، قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی صداؤں کو عام کرنے، تزکیہ و احسان، اصلاحِ معاشرہ اور طلبہ کی علمی و اخلاقی تعمیرِ نو کے لیے وقف کر دیا۔
آپ کی دور اندیش قیادت اور شب و روز کی محنت کے نتیجے میں "جامعہ اسلامیہ آلائی" روز افزوں ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور ایک مثالی تعلیمی و تربیتی مرکز بن کر ابھرا ہے۔ اس ادارے میں درج ذیل امور کو بنیادی ترجیحات میں شامل رکھا گیا ہے:
* قرآن و سنت کی خالص تعلیمات کی ترویج و اشاعت۔
* مسنون عقائد و اعمال اور منہجِ سلف کی پاسداری۔
* طلبہ میں اعلیٰ اخلاقی اقدار، للہیت اور خدمتِ خلق کا جذبہ بیدار کرنا۔
حضرت مولانا کی علمی بصیرت، حسنِ انتظام، بے لوث اخلاص، سادگی اور طلبہ پر شفیقانہ سرپرستی نے جامعہ کو ایک مستحکم اور مثالی ادارہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ آپ کا ہمیشہ سے یہ نظریہ اور فکر رہی ہے کہ مدارس کے طلبہ صرف خشک علمی ابحاث تک محدود نہ رہیں، بلکہ علم کے ساتھ عمل، تقویٰ، اخلاص اور عصری چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے معاشرے کے لیے ایک نافع انسان بن کر نکلیں۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت مولانا سمیع اللہ صاحب کی تمام تر علمی، دینی، دعوتی اور تربیتی خدمات کو اپنی بارگاہِ عالیہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی عمر، صحت اور علم و عمل میں برکتیں نازل فرمائے اور انہیں تا دیر اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کی توفیقِ مستمرہ سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین۔
مولانا حبیب اللّٰہ نعمانی صاحب
شیخ الحدیثجامعہ اسلامیہ آلائی کے شیخ الحدیث ہیں۔ آپ نے دینی تعلیم جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی سے حاصل کی اور وہاں سے سندِ فضیلت حاصل کی۔
آپ ایک ممتاز علمی، تحقیقی اور تدریسی شخصیت ہیں۔ عرصۂ دراز سے حدیثِ نبوی، علومِ اسلامیہ اور دینی تعلیم و تربیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ آپ کی تدریس کا انداز علمی گہرائی، تحقیق، اعتدال اور طلبہ کی بہترین رہنمائی کا آئینہ دار ہے، جس سے بے شمار طلبہ نے علمی استفادہ حاصل کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو متعدد علوم و فنون میں مہارت عطا فرمائی ہے۔ آپ علمِ فلکیات کے ماہر، فنِ خوشنویسی کے ممتاز ماہر اور علمی و تحقیقی ذوق رکھنے والے مصنف ہیں۔ آپ کی تصنیف کردہ متعدد کتب اہلِ علم میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں، جو مختلف علمی موضوعات پر آپ کی گہری تحقیق اور وسیع مطالعے کی عکاسی کرتی ہیں۔
جامعہ اسلامیہ آلائی میں آپ کی موجودگی طلبہ کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ آپ نہ صرف حدیثِ نبوی ﷺ کی تعلیم دیتے ہیں بلکہ طلبہ کی علمی، فکری اور اخلاقی تربیت میں بھی بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ آپ کی سادہ طبیعت، اخلاص، علمی وقار اور حسنِ اخلاق ہر ملنے والے کو متاثر کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا حبیب اللہ نعمانی صاحب کی دینی، علمی، تحقیقی اور تدریسی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے علم و قلم میں مزید برکت عطا فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو ان کے فیوض سے ہمیشہ مستفید فرماتا رہے۔ آمین۔
جامعہ اسلامیہ آلائی کے شیخ الحدیث ہیں۔ آپ نے دینی تعلیم جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی سے حاصل کی اور وہاں سے سندِ فضیلت حاصل کی۔
آپ ایک ممتاز علمی، تحقیقی اور تدریسی شخصیت ہیں۔ عرصۂ دراز سے حدیثِ نبوی، علومِ اسلامیہ اور دینی تعلیم و تربیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ آپ کی تدریس کا انداز علمی گہرائی، تحقیق، اعتدال اور طلبہ کی بہترین رہنمائی کا آئینہ دار ہے، جس سے بے شمار طلبہ نے علمی استفادہ حاصل کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو متعدد علوم و فنون میں مہارت عطا فرمائی ہے۔ آپ علمِ فلکیات کے ماہر، فنِ خوشنویسی کے ممتاز ماہر اور علمی و تحقیقی ذوق رکھنے والے مصنف ہیں۔ آپ کی تصنیف کردہ متعدد کتب اہلِ علم میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں، جو مختلف علمی موضوعات پر آپ کی گہری تحقیق اور وسیع مطالعے کی عکاسی کرتی ہیں۔
جامعہ اسلامیہ آلائی میں آپ کی موجودگی طلبہ کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ آپ نہ صرف حدیثِ نبوی ﷺ کی تعلیم دیتے ہیں بلکہ طلبہ کی علمی، فکری اور اخلاقی تربیت میں بھی بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ آپ کی سادہ طبیعت، اخلاص، علمی وقار اور حسنِ اخلاق ہر ملنے والے کو متاثر کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا حبیب اللہ نعمانی صاحب کی دینی، علمی، تحقیقی اور تدریسی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے علم و قلم میں مزید برکت عطا فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو ان کے فیوض سے ہمیشہ مستفید فرماتا رہے۔ آمین۔
مولانا شیخ انوار الحق صاحب
نائب مہتممجامعہ اسلامیہ آلائی کے نائب مہتمم اور انتظامی ذمہ دار ہیں۔ آپ جامعہ کے تدریسی، انتظامی اور تربیتی امور میں نہایت ذمہ داری، حکمت اور اخلاص کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
آپ نے اعلیٰ دینی تعلیم جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی سے حاصل کی اور سندِ فضیلت سے سرفراز ہوئے۔ آپ جامعہ میں استاد الحدیث کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں اور حدیثِ نبوی ﷺ سمیت مختلف علومِ اسلامیہ کی تدریس میں مصروف ہیں۔
آپ کو عربی زبان و ادب سے خصوصی شغف ہے، جس کا اظہار آپ کی تدریس، مطالعے اور علمی ذوق میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ اسی طرح تاریخِ اسلام اور تاریخِ عالم کے مطالعے میں بھی آپ کو گہری دلچسپی ہے، جس کی بدولت آپ طلبہ کو تاریخی شعور اور علمی بصیرت سے آراستہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تدریسی اور انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ آپ دعوت و تبلیغ کے میدان میں بھی سرگرم عمل ہیں۔ آپ اصلاحِ معاشرہ، دینی شعور کی بیداری اور نوجوان نسل کی اخلاقی و فکری تربیت کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا شیخ انوار الحق صاحب کی دینی، علمی، تدریسی اور دعوتی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، اور انہیں مزید اخلاص و استقامت کے ساتھ دینِ اسلام کی خدمت کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔
جامعہ اسلامیہ آلائی کے نائب مہتمم اور انتظامی ذمہ دار ہیں۔ آپ جامعہ کے تدریسی، انتظامی اور تربیتی امور میں نہایت ذمہ داری، حکمت اور اخلاص کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
آپ نے اعلیٰ دینی تعلیم جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی سے حاصل کی اور سندِ فضیلت سے سرفراز ہوئے۔ آپ جامعہ میں استاد الحدیث کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں اور حدیثِ نبوی ﷺ سمیت مختلف علومِ اسلامیہ کی تدریس میں مصروف ہیں۔
آپ کو عربی زبان و ادب سے خصوصی شغف ہے، جس کا اظہار آپ کی تدریس، مطالعے اور علمی ذوق میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ اسی طرح تاریخِ اسلام اور تاریخِ عالم کے مطالعے میں بھی آپ کو گہری دلچسپی ہے، جس کی بدولت آپ طلبہ کو تاریخی شعور اور علمی بصیرت سے آراستہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تدریسی اور انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ آپ دعوت و تبلیغ کے میدان میں بھی سرگرم عمل ہیں۔ آپ اصلاحِ معاشرہ، دینی شعور کی بیداری اور نوجوان نسل کی اخلاقی و فکری تربیت کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا شیخ انوار الحق صاحب کی دینی، علمی، تدریسی اور دعوتی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، اور انہیں مزید اخلاص و استقامت کے ساتھ دینِ اسلام کی خدمت کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔
مولانا قاری عبد الرشید صاحب
استاد الحدیث...
مولانا قاری عنایت اللّٰہ صاحب
استاد الحدیث...
مولانا حبیب اللّٰہ رحیمی صاحب
استاد الحدیث...
مولانا سراج الحق صاحب
ناظم تعلیمات...
مولانا عنایت الرحمان صاحب
استاد...
مولانا احسان الحق آفاقی صاحب
استاد...
مولانا محمد حنیف صاحب
استاد...
📸 جامعہ اسلامیہ فوٹو البم
نماز جمعہ
جامعہ اسلامیہ آلائی
وادی آلائی
وادی آلائی
جامعہ اسلامیہ آلائی
امتحان
مکتبہ
اندرونی مدرسہ
اندرونی مسجد
خوبصورت مینار
خوبصورت مینار
سکول کے طلباء
برفباری کے موسم میں
برفباری کے موسم میں
جامعہ اسلامیہ آلائی
جامعہ اسلامیہ آلائی
جامعہ کا حسین منظر
جامع مسجد بیت الرحمان
روحانی ماحول
جامعہ کا حسین منظر
کمپیوٹر لیب
جامعہ کا حسین منظر
مکتبہ
روحانی ماحول
الجامعہ پبلک سکول
جامعہ کا حسین منظر
جامع مسجد بیت الرحمان کا خوبصورت منظر
العربية
English