UR اردو EN English
Jamia Islamia Allai
Logo

📌 العنوان: رضاعی بھتیجی سے نکاح کاحکم

👤 اسم المستفتي: محمد فاروق
 | 
📍 العنوان / المدينة: الائی کوشگرام
 | 
📅 تاريخ الإصدار: 19-07-2026
❓ الاستفتاء (السؤال):

استفتاء کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ زید کی بیوی زینب نے مسمی حسن کودودھ پلایاتھا۔زینب کی وفات کے بعد زید نے فاطمہ سے شادی کی اوراس سے زید کاایک لڑکا عمرو پیدا ہوا۔ اب سوال یہ ہے کہ زینب کے رضاعی بیٹے حسن کی لڑکی کانکاح فاطمہ کے بیٹے عمرو سے جائز ہے یاکہ نہیں؟۔ بینوا توجروا

✨ الجواب وبالله التوفيق:

الجواب حامدًا ومصلیًا ومسلمًا صورت مسئولہ میں زینب کاحسن کودودھ پلانے سے حسن اور عمرو دونوں زید کےبیٹے ہوئےاوردونوں آپس میں رضاعی بھائی بن گئے ہیں۔ اب حسن کی بیٹی عمرو کی رضاعی بھتیجی ہے۔ لہذا اس کانکاح عمرو سے شرعًا جائزنہیں۔ لقوله علیه الصلاة والسلام:يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ۔(صحیح مسلم،بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ،حدیث نمبر:1445) فتاویٰ ہندیہ میں ہے:وهذه الحرمة كما تثبت في جانب الأم تثبت في جانب الأب وهو الفحل الذي نزل اللبن بوطئه كذا في الظهيرية۔ يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة۔(ج1،ص343) واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم کتبہ ضیاءالرحمن عفی عنہ دارالافتاء جامعہ اسلامیہ الائی بنہ 4مئی 2025ء الجواب صحیح مفتی سمیع الحق 4مئی 2025ء


📌 فتاوى أخرى ذات صلة بهذا الموضوع:

🔙 العودة إلى الصفحة الرئيسية لدار الإفتاء
WhatsApp