اگر کسی نے وتر میں دعائے قنوت کی جگہ سورۂ فاتحہ دعا کی نیت سے پڑھ لی، کیونکہ اس میں بھی دعا ہے،مثلا اهدنا الصراط المستقيم...تو کیا قنوت ادا ہو جائے گا؟حنفی فقہ کے اصول کی رو سے اس میں دو پہلو ہیں سورۂ فاتحہ قرآن کی تلاوت ہے۔اس کے اندر دعا کےمضامین بھی موجود ہیں، خصوصاً اهدنا الصراط المستقيم فقہاء نے قنوت کے لیے "دعا" کو کافی قرار دیا ہے، اور قرآن کی دعائیں بھی دعا ہی ہیں۔ اس لیے اصولی طور پر اگر کوئی شخص دعا کی نیت سے سورۂ فاتحہ پڑھے تو اس کے ذریعے دعا کا معنی حاصل ہو جاتا ہے۔ سوال ایں کہ غلطی سے کسی نہ دعا کی نیت سے پڑھی تو کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص وتر کی نماز میں دعائے قنوت یاد ہونے کے باوجود بھولے سے اس کی جگہ دعا کی نیت سے سورۂ فاتحہ پڑھ لے، تو اس کی نماز بلا کراہت ہو جائے گی اور اس پر سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وتر میں قنوت کا اصل واجب "مطلقِ دعا" (کوئی بھی دعا پڑھنے) سے ادا ہو جاتا ہے، جبکہ مخصوص دعا (اللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِینُكَ... الخ) پڑھنا سنت اور افضل ہے۔ چونکہ سورۂ فاتحہ میں دعا کا مضمون (خصوصاً: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ) موجود ہے اور اسے دعا کی نیت سے ہی پڑھا گیا ہے، اس لیے قنوت کا اصل واجب ادا ہو گیا، اور سنتِ قنوت کے چھوٹ جانے پر سجدہ سہو لازم نہیں آتا۔ البتہ، جان بوجھ کر ایسا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ قنوتِ مسنونہ کو چھوڑنا خلافِ سنت ہے۔ چونکہ یہاں معاملہ صرف بھول اور غلطی کا ہے، اس لیے نماز بالکل درست ہے۔ دلائل و حوالہ جات: 1۔ فتاویٰ شامی میں ہے: "(قوله: وهو مطلق الدعاء) أي القنوت الواجب يحصل بأي دعاء كان، في النهر، وأما خصوص: «اللهم إنا نستعينك» فسنة فقط، حتى لو أتى بغيره جاز إجماعًا." (کتاب الصلوۃ، واجبات الصلاة، ج:1، ص:468، ط:سعید) 2۔ البحر الرائق میں ہے: "وأن المراد بالقنوت الدعاء ولا يختص بلفظ حتى قال بعضهم: الأفضل أن لا يؤقت دعاء ومنهم من قال به إلا الدعاء المعروف اللهم إنا نستعينك إلى آخره واتفقوا على أنه لو دعا بغيره جاز." (كتاب الصلوة، باب صفة الصلاة، ج:1، ص:318، ط:دارالكتاب الإسلامي) 3۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: "وليس في القنوت دعاء مؤقت كذا في الهداية. والمنقول عن الصحابة رضي الله عنهم: اللهم إنا نستعينك... الخ." (كتاب الصلوة، الباب الثامن في الوتر، ج:1، ص:111، ط:دار الفكر)
اردو
English